بعض اوقات ہم بہُت سی باتیں کہناچاہتے ہیں لیکِن زبان دانتوں میں ہی دبائے رکھنا پڑتی ہے کیا کریں مجبُوری جو ٹھہری،،،لیکِن مجبُوری تو میری اور آپ کی ہو سکتی ہے نا باقی ساری دُنیا کو تو ایسی کوئ مجبُوری لا حق نہیں رہی ہوتی نا سو پِچھلے دِنوں ایک خاتُونِ خانہ کی ذِمے داری نِبھاتے ہُوئے کُچھ ایسے تجرُبات سے گُزری کہ دِل و دِماغ ماننے سے اِنکاری ہیں مگر آنکھوں دیکھی کو کیا جُھٹلانا گو ایسا ایسا بہُت کُچھ اکثر اوقات دیکھتے ہی رہتے ہیں ہم لوگ ،،،مگر گھر میں دیکھنا اور برداشت کرنا اور بات ہے کُچھ روز پہلے ایک چینل پر ایک بہُت اچھی طرح ڈریس اپ ہُوئ ایک بہُت شاندار خاتُون کو دیکھا جو ایک ٹاک شو میں موجُود تھیں پہلے تو مُجھے اُن کے بیٹھنے کے انداز پر ہی اعتراض ہُوا عجیب مردانہ انداز تھا بیٹھنے کا ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر تو بیٹھ ہی جاتے ہیں لیکِن بہُت ہی عجیب انداز تھا جو یُوں سرِ محفِل کافی معیُوب سا لگ رہا تھا یا ہم ٹھہرے پُرانے خیالات رکھنے والے لوگ اِس لِئے بہُت عجیب لگاُ ہوگا ابھی میں اِس شاک سے ہی نِکل نہیں پا ئ تھی کہ مُحترمہ نے بہُت مضبُوطی سے اپنی جُوتی کو نیچے سے کس کر پکڑ لیا اور پِھر سارا پروگرام پکڑے ہی رکھا کہ کہیں جُوتی نظر بچا کر بھاگ نا لے اکرم صاحِب کی جو میری حد سے بڑھی ہُوئ صفائ پر عمل تو کرتے ہیں یہ دیکھ کر تو ہنسی اِتنے زور سے نِکلی کہ اب بتاؤ اور میں بھلا اب کیا بتاتی ؟؟؟
غُصّہ بھی آ رہا تھا اور کُچھ کر بھی نہیں پا رہی تھی بس سارا پروگرام نظر میں رکھا کہ دیکھُوں شاید جان چُھٹ گئ ہو بے چاری جُوتی کی لیکِن نا جی ،،
ہمارے ہاں بہُت سے لوگ اِسِ بات کو بہُت بُرا سمجھتے ہیں کہ کوئ خاص طور پر اِنہیں ہاتھ وغیرہ دھونے کا کہے جائے کہنا تو اچھا نہیں لگتا کِسی کو بھی کہ اکثر لوگ بُرا مان جاتے ہیں مگر مُجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ ایک مُسلمان ہونے کے ناطے صفائ میں حِصّے دار بنیں نا صِرف صفائ کا فائِدِہ ہو گا بلکہ ہم بہُت سی بیماریوں سے بھی بچ جائیں گے لیکِن ہوتا یہ ہے کہ ہم اِگر خُود بھی صاف صفائ کا خیال رکھیں تو بجائے اِسِ کے کہ اِسے سراہا جائے اُلٹا مزاق کا نِشانہ بناِیا جاتِا ہے کہ اِسے دیکھو ذرا ،،،پِچھلے دِنوں ہمارے گھر میں بھی یہی بات مُشاہِدہ ہُوئ کہ چلیں جی ویسے نا سہی کم از کم کھانا کھاتے وقت تو ہاتھ دھو لِئے جائیں جبکہ کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں تو ہاتھ دھونا سُنّت بھی ہے اور یہ بات تو ہمیں بہُت بچپن سے ہی سِکھائ جاتی ہے اور بچپن کی عادتیں تو ہمیشہ بہُت پُختہ ہوتی ہیں یعنی کہ ایسی باتیں بچپن سے نہیں سِکھائ گئ ہوں گی یا ہم اب ایسی باتوں کو درخورِ اِعتنا ہی نہیں سمجھتے جو کہ دیکھنے میں بہُت معمُولی لیکِن آئیندہ کے لِئے ہمارے لِئے ہی فائِدِہ مند ہے پِھر بہُت سے امراض صِرف اور صِرف گندگی کی وجہ سِے ہی پھیلتے ہیں اور لا عِلاج ہوتے ہیں تو کیا یہ صِرف ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لِئے بھی نُقصان کا باعث نہیں ہے جب ہمیں خُود ہی اِس کا عِلم نہیں ہوگا تو ہم اہنے بچوں کو یہ سب کیسے سِکھائیں گے ہمارے ہاں لڑکوں کو کِسی بھی طرح کی بات سے منع نہیں کیا جاتا بقول کِسِی کے وُہ تو راجے ہوتے ہیں اور نہائے دھوئے پیدائشی صاف سُتھرے ہی ہوتے ہیں مزید صفائ کی ضرُورت نہیں ہوتی تو ہمارے مُطابق جِنہیں ہم گورے کہہ کر خُود کوئ اعلیٰ چیز بن جاتے ہیں کہ صفائ نِصف ایمان ہے تو ہمارے مزہب میں کہا جاتا ہے تو ہم نے اپنی اعلیٰ ترجیحات خُود دُوسروں کو تفویض کر دی ہیں میں نے تو بس ویسے ہی کُچھ دُکھے دِل کے ساتھ یہ پوسٹ لِکھنی تھی لِکھنی شُرُوع کی تو دیکھا کہ واہ بھئ آج تو ہاتھ دھونے کا عالمی دِن ہے گو ِمیری سُستی کی وجہ سے وُہ آج کا دِن کل میں بدل چُکا ہے لیکِن خیر ہے کوئ بات نہیں دیر آید درُست آید،،،مگر جاتے جاتے ایک بات کہ کیا اکثر آپ کے ساتھ بھی ہوتا ہے کہ کِسی کی ناگوار گُزرنے والی عادت پر کُچھ کہہ نا پائیں مگر نظر بار بار اُدھر ہی لُڑھک جاتی ہو میرے ساتھ تو ہمیشہ ہی ایسا ہوتا ہے غُصّہ بھی آئے جا رہا ہوتا ہے اور اور بس،،،
اب تو ميں اِتنی زيادہ ڈُبکياں لگانے لگی ہُوں کہ بار بار معزرت کرتے ہُوۓ بھی شرمِندگی ہونے لگی ہے اصل ميں اُوپر تلے اِتنے عجيب و غريب مراحل سے گُزر گُزر کر لگتا ہے سبھی باتوں سے ہی دِل اُچا ٹ ہو گيا ہے کيسی عجيب بات ہے کہ اپنا يہ شوق جو مُجھے دِل و جان سے عزيز تھا باوجُود کوشِش اور خواہِش کہ لِکھ نہيں پاتی بہُت کُچھ لِکھ کر رکھا ہے ليکِن طبيعت مانتی نہيں دُنيا کے دھندے اِتنے عجيب ہيں کہ ايک کے بعد ايک بندہ سر کرتا ہی رہتا ہے بے شک بہ امرِ مجبُوری ہی سہی ہم سبھی کام کرتے ہی رہتے ہيں ليکِن اکثر کام ايسے بھی ہوتے ہيں جو بادلِ نخواستہ کرنے پڑتے ہيں دِل چاہے نا چاہے اندر سے آپ کِتنے دُکھی ہو رہے ہوں نقلی بتيسی لگانی پڑتی ہے ميں ايسے مراحل سے بہُت دفعہ گُزر چُکی ہُوں ليکِن کِسی اور کو دُکھ ميں ديکھنا عجب قيامت ہے جبکہ آپ ايسے حالات ميں خُود کو اِتنا بے بس محسُوس کرتے ہوں کہ بس ہاتھ ملنے کے عِلاوہ اور کُچھ نا کر سکيں ،،،،
کُچھ ايسا ہی بندھا ہُوا پاتی ہُوں ميں آجکل خُود کو،،،،دو مرتبہ دو مہينے ميں پاکِستان کا چکر لگايا پہلے جانے کے لِۓ اور پھر دوبارہ جانے کی تيارياں،،،، ايسے ميں تھوڑی سی اور دُوری ہو گئ آپ سب لوگوں سے کِسی کا کوئ حال احوال ہی پتہ نہيں چلا واپِس آکر بھی کافی دِن کِسی سے بھی رابطہ نہيں رہا ليکِن جہاں آپ کو رابطہ کرنا ہو اور آپ نا کر پائيں تو تکليف کُچھ زيادہ ہی ہوتی ہے دسمبر ميں پاکِستان گئ تھی تو سب سے بات ہوگئ تھی مگر فروری ميں ايک تو جانا بہُت کم دِنوں کے لِۓ ہُوا اور پِھر شادی کی افراتفری کے دِنوں ميں کُچھ خيال آيا بھی تو عملی جامہ پہنانے کی نوبت ہی نا آپائ واپِس آنے کے کُچھ دِنوں کے بعد جب اِدھر اُدھر نظر کی تو کہيں کُچھ گڑبڑ کا اِحساس ہُوا حِجاب سے ميری بہُت بات ہوتی ہے پيارے تو مُجھے اپنے سبھی بہن بھائ بہُت زيادہ ہيں اور کِسی کی بھی تکليف برداست نہيں ہوتی حِجاب کو ايس ايم ايس کيا تو جواب ميں جو اِطلاع مُجھے مِلی وُہ مُبالغے کی بات نہيں حقيقت ميں ميرے ہوش اُڑانے کو کافی تھی ميں خُود بہُت دير تک شاک کی کيفيت ميں رہی ا ور ابھی تک ہُوں ميں جانتی ہُوں وُہ آجکل کِس کرب کِس اذيت سے گُزر رہی ہے ايسے ميں تکليف کی شِدت سِوا اِس لِۓ بھی ہے کہ وُہ گھر ميں بِالکُل اکيلی ہوتی ہے ہم نے اگر يہ دُکھ ديکھا تو گھر بار والے تھے ماں سے دُور تھے عادت پڑ گئ ہُوئ تھی دُوری کی اُس سب کے باوجُود اِتنے مُدْت گُزرنے کے باوجُود دِل مانتا نہيں ہے جبکہ ،،،،پتہ نہيں ميں يہ تسلی دے رہی ہُوں يا کيا کر رہی ہُوں کيونکہ بقول ميری صاحبزادی کے آپ جب کِسی کو تسلی ديتی ہيں تو آپ کو خُود تسلی کی زيادہ ضرُورت محسُوس ہوتی ہے آپ کی اپنی حالت اِتنی پتلی ہوتی ہے کہ سامنے والا آپ کو تسلی دينے پر مجبُور ہو جاتا ہے سو اِس وقت بھی کُچھ ايسا ہی ہے کہ ميں جِتنا زيادہ حِجاب کے لِۓ سوچتی ہُوں کوئ حل سمجھ ميں نہيں آتا ميرا بس نہيں چل رہا کہ کيسے الفاظ ہوں جو کُچھ اثر کرکے اُس کے درد کو کم کر پائيں کاش کہ ميں وہاں قريب ہوتی گلے لگا کر کُچھ تشفی کر پاتی کو بتا پاتی کہنے والے صبر کا کہتے ہيں ليکِن صبر آتا نہيں آپ بس دُعا کرو اپنے لِۓ بھی اور امی کے لِۓ بھی اُن کے درجات کی بُلندی کے لِۓ ،ہر اِنسان سے غلطياں ہو جاتی ہيں بہُت دِل سے دُعا کرو کہ اللہ تعالي اُن کی غلطيوں کو در گُزر کريں اور اُن کے گُناہوں کو مُعاف کريں اچھا ئيوں کو مدِ نظر رکھ کر اِنعام سے نوازيں ميں تو اپنی امْی ابُو کے لِۓ ايسے ہی دُعا کرتی ہُوں آپ کے لِۓ بھی بہُت دُعا کرتی ہُوں کہ وُہ ربْ کريم آپ کو اِس تکليف دِہ وقت ميں ہِمْت عطا کرے ،آمين ميری دِلی دُعائيں ہر وقت آپ کے ساتھ ہيں کبھی بھی کِسی بھی قِسم کی مدد ضرُورت ہو ميں ہر وقت حاضِر ہُوں کبھی خُود سے دُور نا سمجھنا مُجھے اچھا،، اللہ کريم آپ کے لِۓ بہتری کے سامان پيدا کرے اور ساری پريشانياں دُور فرماۓ،،آمين
ہر دِن ایک سا ہی ہوتا ہے عام دِنوں کی طرح ہی طلُوع اور غرُوب ہوتا ہے لیکِن ہر ایک کے لِئے ہر دِن ایک الگ اہمیّت رکھتا ہے اور اُس دِن کے ساتھ جُڑی یادیں بھی کبھی خُوشیاں اور کبھی درد لے کر آئ ہوتی ہیں مگر یہی زِندگی ہے اور یہی زِندگی کے اُتار چڑھاؤ ہیں جِن سے ہمیں ہر حال میں گُزرنا ہی پڑتا ہے چاہتے نا چاہتے ہُوئے ،،ربّ کی رضا میں راضی ہونا ہی پڑتا ہے ،،،
آج میرے پیارے ابُو کو ہم سے ہمیشہ کے لِئے دُور ہُوئے پُورے چودہ سال ہو گئے ہیں لیکِن ایسا کیُوں لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو مگر کبھی کبھار ایسا بھی لگتا ہے جیسے مُدّتیں گُزر گئیں سر سے سایہ دار درخت کی چھاؤں کو ختم ہُوئے ،،،وُہ پیار وُہ دُلار اب خواب ہُوا ہماری غلطیوں کو نظر انداز کرنے والا اب کوئ نہیں ہم جو اپنے بزُرگوں،،اپنے پیاروں،،اپنی جنّتوں ،،اپنے مُشفِقوں کے پیار کو اپنا حق سمجھ کر
forgranted
لیتے ہیں برابری کے حقُوق کے طلبگار بن کر ،،جواب میں کیا ہم اپنا فرض ویسا ہی پُورا کرتے ہیں یا پُورا کر پاتے ہیں ،،نہیں نا اور اِس نہیں کا عِلم بھی ہمیں اُن پیاروں سے ہمیشہ کی دُوری کے بعد ہوتا ہے شاید ہم یہ سوچے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا اور جب ایسا ہو جاتا ہے تو زمین پاؤں کے نیچے سے سرک چُکی ہوتی ہے اور ہم خلاؤں میں پاتے ہیں خُود کو،،تو کیُوں نا ہم وقت کی قدر کریں اور اپنے پیاروں کی بھی ،،دُوسروں کے تجرُبوں سے سیکھ لے لینا کُچھ ایسا بھی بُرا نہیں ہوتا سو جِن کی پیاری جنّتیں اور پیارے ابُو جان اپنے پیارے وجُود کے ساتھ اُن کے گھروں کی رونقیں بڑھا رہے ہیں تو اِن رونقوں کے ساتھ ساتھ رحمتوں اور برکتوں کو بھی دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیں کہ گیا وقت واپِس نہیں آیا کرتا،،،
تو کیا میں اُمّید رکُھوں کہ میری بات آپ کو اچھی لگی ہوگی اور آپ اِسِ پر عمل بھی کریں گے؟؟؟؟
اپنے اپنے دُکھ،،،مُحبتوں کی امین میری ماں،،،،،
یہ دو link بھی دیکھنا چاہیں تو،،،
اور میرے پیارے امّی ابُو کے لِئے بھی دُعا ضرُور کیجئے گا کہ اللہ تعالیٰ اُن کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور اپنی خاص پناہوں میں رکھے،،آمین
آپ سب کو ربیعُ الاوّل کے مُبارک مہینے کی بہُت بہُت مُبارک ہو اللہ تعالیٰ ہم سب کو اِس ماہِ مُبارکہ کی برکتوں سے فیضیاب ہونے کی توفیق مِلے ڈھیروں ڈھیر دُعائیں کریں اور عِبادتیں کریں اور اپنی دُعاؤں میں ہمیں بھی یاد رکھیں،،،
خُرم نے مُجھے ٹیگ کیا ورنہ تو لگ رہا تھا سب بُھول بھال گئے حالانکہ قصُور وار تو میں خُود ہُوں بہر حال اب تو ٹیگا گیا ہے تو جواب بھی حاضِر ہیں،،،
2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
کوئ خاص تو نہیں کرنا چاہتی لیکِن کُچھ ایسی باتیں اور ضرُوری کام ہیں جو خواہِش ہے کہ اِس سال یہ فرض ادا ہی ہو جائیں تو اچھا ہے باقی جو اللہ کو منظُور اور ہاں جب یہ کام ہو گئے تو آپ سب کو بھی ضرُور بتایا جائے گا،،،
2012ء میں کس واقعے کا انتظار ہے؟
اُوپر والے واقعے کا ہی انتظار ہے فی الحال تو،،،
2011ء کی کوئی ایک کام یابی؟
کوئ ایسی خاص کامیابی والی بات تو دھیان میں نہیں ہے اللہ کا اِحسان ہے جو بِن مانگے ہی دیتا ہے ہم اِس قابِل تو نہیں تھے جِتنا اُس نے نوازا ہے جِتنا دیا ہے شُکر اللہ کا کامیابی ناکامی سب کے لِئے شُکر گُزار ہیں وقت اور عُمر کے ساتھ ساتھ کامیابیوں یا نا کامیوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا ہو چُکا ہے،،،
2011ء کی کوئی ایک ناکامی؟
میں نا کامیوں کو برداشت کرنے اور بُھول جانے کی عادی ہُوں،،،
2011ء کی کوئی ایک ایسی بات جو بہت یادگار یا دل چسپ ہو؟
2011ء میں بہُت مُدت کے بعد پاکِستان جانا ہُوا میرے پارے جانُو بھیا کی شادی تھی بہُتتتتتتتتتت مزہ آیا اِتنے پیارے لوگوں سے مُلا قات ہُوئ ،،،عمار،،شگُفتہ اور حِجاب سے بات بھی ہُوئ بہُت اچھا لگا میرے لِئے یہ بات یادگار بھی اور دِلچسپ بِھی تھی،َ،،،
سال کے آغاز پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟
ہمیشہ کی طرح سال کے آغاز پر اچھا ہی لگ رہا ہے اور اچھا ہی لگتا ہے اچھی اچھی دُعائیں اور سوچیں ہوتی ہیں دِماغ میں کہ اللہ تعالیٰ سب کے لِئے یہ سال اچھا ہی رہے،،،
کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟
سیکھنے کا عمل تو ساری زِندگی جاری ہی رہتا ہے میں بھی اِسی عمل کا حِصّہ بنے رہنا چاہتی ہُوں بس دُعا کی ضرُورت ہے کہ اللہ تعالیٰ مُجھے میرے ہر عمل میں اِستقامت بخشے،،،آمین
عمار بچے اِتنے عرصے کے بعد آپ نے ٹیگ کا سِلسِلہ دوبارہ سے شُرُوع کر کے بہُت اچھا کیا ہے،،،
اور اب میں شعیب صفدر
میرا پاکِستان اور
تانیہ رحمان کو ٹیگ کرتی ہُوں،،،،
بہُت اچھا لگ رہا ہے کہ آج پِھر ایک نئ تاریخ کا حِصّہ بن گئے ہیں اِس سے پہلے کافی عرصہ ہُوا ایک پروگرام آیا کرتا تھا
beyond 2000
تو بہُت عجیب سا لگتا تھا کہ کیا ہم بھی ہوں گے
beyond 2000
میں اور وُہ وقت آیا بہُت شان سے کہ نا صِرف یہ کہ ایک نیا سال،،نئ صدی بلکہ ایک نیا ہزاریہ بھی ہم نے دیکھا جبکہ ہماری اگلی آنے والی بہُت ساری نسلیں بھی یہ موقع نہیں دیکھ پائیں گی عجیب سی بات تھی نا تو حیرانگی تو ہونا ہی تھی،،، اور وقت اِتنی تیزی سے گُزرتا ہے کہ ایک نیا عشرہ بھی گُزر گیا 2000 کا جبکہ آج ہم ایک نئ تاریخی تاریخ کا دِن بھی دیکھ رہے ہیں یعنی
گیارہ،،گیارہ ،،گیارہ
اچھی بات یہ ہے کہ اب یہ دِن ،،یہ تاریخ پُورے ایک سو سال کے بعد آئے گی یقین نہیں آتا ،،لوگوں نے تو اِس ایک خاص دِن کو اور زیادہ خاص بنانے کے لِئے بہُت کُچھ ایسا کیا ہے جو عام سے ذرا ہٹ کر تھا گو ہر دِن ہی دُنیا میں نئ نئ باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکِن مُجھے تو ایک خبر نے زیادہ مُتاثر کیا جہاں
گیارہ،،گیارہ ،،گیارہ
کے دِن کو خاص کرنے کے لِئے ماں باپ کی خُوشیوں کو بھی ایک اور ایک گیارہ کر دیا یعنی ڈبل کر دیا جُڑواں بچوں نے پیدا ہو کر ،،واہ بھئ واہ کیا مزے کی بات ہے؟؟؟
اللہ تعالیٰ خُوش رکھے اور زِندگی کا ہر دِن ہی ایک نیا اور خُوبصُورت رنگ لے کر آئے سب کے لِئے ،،،آپ سب کو بھی اِس نئ تاریخ یعنی
گیارہ،،گیارہ ،،گیارہ
کا حِصّہ بننا مُبارک ہو،،،
ماشاءاللہ ذِی الحج کا مہینہ ہم مُسلمانوں کی روایتوں کا امین بن کر آچُکا ہے لیکِن ہم میں سے کِتنے لوگ ہیں جو اِس مہینے کی برکت اور اہمیّت کو سمجھتے ہیں سبھی لوگ کہیں گے کہ کیا ہم نہیں جانتے قُربانی اور ذِی الحج کی اہمیّت،،،،
اصل بات یہ ہے کہ ہم ،،، میں لگی لِپٹی رکھے بغیر کہُوں گی کہ اپنے کو اِتنے عقلِ کُل سمجھتے ہیں کہ سامنے والا ہر بندہ ہمیں پاگل دِکھتا ہے اور مزہب کے مُعاملے میں تو ویسے بھی شاید ہم مرفُوعُ القلم ہستیاں ہیں،،گو اللہ کا اِحسان ہے کہ ہمارے مُلک میں اِسلام نافز ہے پھر بھی ہم اپنی مرضی سے ہرکام کر سکنے کی صلا حیّت رکھتے ہیں ایک دو دِن پہلے ایک چینل پر ایک خاتُون سے کِسی نے پُوچھا کہ آپ بکرا خریدنے آئیں ہیں آپ کِتنے تک کا بکرا خرید نا چاہتی ہیں تو اُنہوں نے کہا ایک لاکھ تک کا بکرا تو ہونا ہی چاہیئے ،،،اور میں یہ سوچ کر حیران رہ گئ کہ آج بھی ہمارے مُلک میں ایک لاکھ کی بہُت قیمت ہے اور ایسے بھی لوگ ہیں جو لاکھوں کی قُربانی کر سکتے ہیں بہُت اچھی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کُچھ لوگوں کو اِتنی توفیق دی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے قُرآن پاک میں کہ ہمیں خُون اور گوشت کی ضرُورت نہیں بات صِرف نیت کی ہوتی ہے جو ہم سُنّتِ اِبراہیمی کی پیروی میں کرتے ہیں ،،،تو کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ آج ہمارے اِرد گِرد کِتنے لوگ ایسے ہیں جو ایک وقت کے کھانے کے لِئے بھی ترس رہے ہیں ایسے میں کیا ہم اپنی وقتی دِکھاوٹ سے اپنے لِئے کوئ اِجتماعی دُکھ خرید رہے ہیں ،،،ہم ہر سال قُربانی کی رقم پاکِستان بِھجوا دیتے ہیں کہ کوئ بہن بھائ ہماری طرف سے قُربانی کردے اِس مرتبہ میں نے سوچا کہ یہیں قُربانی کی جائے ایک دو مرتبہ پہلے بھی یہاں قُربانی کی تھی تو گوشت تقسیم کرنے میں کافی مُشکِلات پیش آئیں تھیں کوئ گوشت لینے والا نہیں مِلتا اِس مرتبہ جب یہاں پھر دِل چاہا قُربانی کو تو اکرم نے کہا کہ ریڈ کریسینٹ میں ڈونیشن والے بکس میں ڈال دیتے ہیں دُنیا میں اِتنی پریشانی دُکھ اور بُھوک ہے ،،،اگر ہم اپنا قُربانی کا فرض ایسے ادا کریں ،،،آپ لوگ کیا کہتے ہیں؟؟؟؟؟
اور اگر خرید کر اپنا ہی فریزر بھرنا ہے تو کیا فائدہ ،،،میں ایسے بہُت سے اپنے قریبی لوگوں کو جانتی ہُوں جو سفید پوشی کے اِس دور میں تن ڈھانکتے ہیں تو پاؤں ںنگے اور پاؤں ڈھکیں تو سر ننگا ،،،کیا یہ بات درُست ہو سکتی ہے کہ ہم ایسے کِسی اپنے قریبی کی دامے درمے سُخنے مدد کر دیں ؟؟؟
آپ سب کو حج اور عیدِ قُرباں کی مُبارک ساعتوں کی بہُت بہُت مُبارک ہو اللہ تعالیٰ جو حج کرنے گئے ہیں اُن کے حج مقبُول کرے اُن کی قُربانیوں کو قبُولیت عطا ہو اور جو بھی میرے مُلک کے لوگ قُربانی کر رہے ہیں اپنے اُن بہن بھائیوں کو پہلے یاد رکھیں جو قُربانی کی طاقت نہیں رکھتے کہ اُن کا حق بھرے پیٹ والے لوگوں سے بہُت زیادہ ہے اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی باریکیوں کو سمجھنے کی توفیق عطا کرے ،،،آمین
میرا مقصد کِسی کی دِلآزاری کا ہر گِز نہیں لیکِن اگر ہم اپنے بھرے دسترخوانوں کو تھوڑا وسیع کر لیں تو قُربانی کا اصل مفہُوم سمجھنے میں یقینی آسانی ہوگی کہ ہمارا دین تو قدم قدم پر ہمیں قُربانی کی اہمیّت سمجھاتا ہے اور اِس کا درس بھی دیتا ہے ،،
نہایت سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اِس کی حُسین ،اِبتدا ہے اِسمعیل
ایک بار پھر آپ سب کو عیدُالا ضحیٰ کی بہُت بہُت مُبارک ہو،،،
بہُت دِنوں کے بعد حاضری ہو رہی ہے بہُت سے مسئلے مسائِل اور ِبہُت ساری ایسی باتیں تھیں جو آپ سب سے شیئرکرنے کو دِل چاہ رہا تھا لیکِن کبھی کام کی زیادتی آڑے آجاتی تھی اور کبھی ماشاءاللہ سے مہمانوں کی بابرکت آمد کی وجہ سے وقت نہیں مِل رہا تھا ،،،بازو کے درد نے بھی پِھر سے تھوڑا پریشان کر رکھا تھا لیکِن خیر یہ تو سب کے ساتھ ہے سب کی زِندگیوں میں مسئلے مسائِل چلتے ہی رہتے ہیں،،،کِتنی ہی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو دِماغ کو گُھمانے کا باعث بن جاتی ہیں لیکِن اگر ہم ذرا سا بھی غور کریں تو بات اِتنی بڑی ہوتی نہیں جِتنی ہماری حد سے بڑھی ہُوئ حِساسِیّت اُسے بنا دیتی ہے ،،،پِچھلے کُچھ دِنوں میں مُلکی اور عالمی حالات میں ہُوئ خبروں نے جہاں دِل کی حالت تہہ و بالا کر رکھی تھی وہیں اپنے گھر کے کُچھ مُعاملات نے بھی دِل پریشان کر رکھا تھا صِرف ایک مُعاملہ آپ سب سے شیئر کرُوں گی ہم لوگ گھر تبدیل کرنا چاہ رہے تھے کافی عرصے سے لیکِن ہر بار ہی کوئ نا کوئ ایسی بات ہو جاتی کہ مُعاملہ عین وقت پر کوئ اور رُخ اِختیار کر لیتا اور کام درمیان میں سے ہی ختم کرنا پڑتا میرے صاحب بہادُر جو ہمیشہ سے ہی اپنے سے زیادہ دُوسروں کی خُوشی اور خیال ہر بات میں ملحُوظ رکھتے ہیں مُجھے یہ کہہ کر چُپ کروا دیتے کہ چلو کوئ بات نہیں گو میں خُود بھی ہمیشہ اپنا فائِدِہ پسِ پُشت ڈال کر ہر کِسی کا بھلا ہی سوچا کرتی ہُوں،،،اب بھی اکرم نے مُجھے گھر کی تبدیلی کا کہا تو میں جو کافی وقت سے اب اِس بات کو بُھول چُکی تھی بلکہ مارے غُصّے کے اب ایسی کوئ بات کرتی ہی نہیں تھی پِھر سے سب بُھول بھال کر نئے گھر کی تلاش میں جُت گئ اور اِدھر اُدھر سب دوستوں کو بھی کہہ دیا اور قِسمت کی بات اگلے ہی دِن اپنی دوست کی ہی بِلڈِنگ میں گھر خالی ہونے کی خبر بھی مِل گئ نا صِرف یہ کہ بِلڈِنگ میری پسندیدہ تھی دوست سے قریب بھی ہو جاتی اور گھر بھی بہُت اچھا سب سے بڑی کشِش کی بات میرے لِئے اُس کا بہُت بڑا کِچن تھا جلدی جلدی بِلڈِنگ کے واچ مین سے کہا کہ بس گھر ہمیں دِکھا بھی دو بلکہ اکرم کے ڈیوٹی سے آنے کے بعد جو میں اُنہیں فوری آرام کا کہا کرتی تھی بس جلدی سے چائے کا ایک کپ تھما کر واچ مین کے پاس جانے کو کہا وہاں بھی سارے مُعاملات بخیر وخوبی انجام پا گئے آفس کی کاروائ کے لِئے بھی اگلے دِن آفس والوں کے کہنے کے مُطابِق درخواست بمع سب ضرُوری اشیاء کے میل کردی اب وقت شُرُوع ہُوا ہمارے خوابوں کا ،،،کونسا کمرہ کون لے گا؟؟کِس کمرے میں کیا رکھا جائے گا ؟؟کون کونسی غیر ضرُوری اشیاء یہیں پُرانے گھر میں چھوڑ دی جائیں گی اور کب ،کدھر سے کیا لیا جائے گا بیٹی کا جوش دیدنی تھا نیٹ سے نِکا ل نِکال کر اپنے کمرے کی سیٹنگ کی جا رہی ہے ،،،لیکِن آخِر میں کیا ہُوا کہ آفس والوں نے کُچھ بکواس قِسم کی شِقیں نِکال کر ہمارے ارمانوں کا ایسا کباڑہ کیا کہ مُعاملہ پِھر وہیں پر آگیا جہاں سے چلا تھا آفس کی طرف سے جو شِقیں نِکالی گئیں وُہ کیا بتاؤُں اور آپ کو بھی اِن سب دفتری بکواسیات سے کیا دِلچسپی ہو گی مگر میرے دِل کی جو حالت ہُوئ وُہ بہُت خراب تھی اِنتہا کا غُصّہ اور بے بسی،،،لیکِن اس سب کے عِلاوہ اور میں کر بھی کیا سکتی تھی،،چُپ چاپ پِھر سے گھر کے کاموں میں لگ گئ لیکِن میرے ربّ نے مُجھے ابھی کُچھ اور بھی دِکھانا تھا مُجھے اِطمنیان دِلانے کے لِئے ،،،میری آنکھیں کھولنے کے لِئے اور ناصِرف اپنے لِئے بلکہ اپنے گھر والوں اور سب کی تسلی کے لِئے بھی،،،پرسوں شام کو پیپلز پارٹی کی خاتُونِ اوّل نُصرت بُھٹو کی وفات ہُوئ اور کل اُن کی آخری رسُومات ہُوئیں میں نے زندگی میں پہلی دفعہ کِسی کی آخری رسُومات اِتنی تفصیلی اور آخر تک دیکھی تھیں ڈراموں وغیرہ میں بھی بس قبر پر مٹی ڈالتے ہُوئے یا دُعا مانگتے ہُوئے ہی دیکھا اپنے پیاروں کے لِئے بھی بس جا کر دُعا مانگتے ہیں کبھی اِتنی گہرائ سے نہیں دیکھا تھا اور اب جب دیکھا تو جہاں اور بہُت سی حقیقتوں کا پتہ چلا وہیں یہ تکلیف دِہ بات بھی اِیک دم سامنے آئ کہ ہم کیا کرتے ہیں ہمارے کہنے اور کرنے میں اِتنا تضاد ہوتا ہے جبکہ زِندگی کی اصل حقیقت یہ ہے جو دیکھی تو جہاں اپنے اِرد گِرد پھیلی اپنی غیر ضرُوری خواہِشوں کے سِلسِلے غلط لگے وہیں یہ عُقدہ بھی کُھلا کہ ہمارا اصل ٹِھکانہ،، اصل جگہ بس یہی ہے اِتنی مُختصِر سی جگہ جہاں کوئ بھی سہُولت نہیں ہوگی اور ہم اپنی زِندگیوں میں کِتنی سہل پسندیوں کے عادی ہوتے جا رہے ہیں یہاں کے بڑے گھروں کے متلاشی ،،آگے کی ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے ہم نے کیا زادِ راہ اِکٹھا کِیا ہوتا ہے کبھی سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے یہ سب سوچ کر جہاں دِل بند ہوتا محسُوس ہُوا وہیں یہ سوچ کہیں اور جا کر اٹک گئ اپنے اِتنے بڑے لیڈران کے اپنے آئیڈئلز کا اِتنا عجیب انجام دیکھ کر جہاں پہلے ہی دِل بہُت بُرا ہو رہا تھا اِتنے عجیب حالات میں قزافی کی ہلاکت اور پِھر ہلاکت کے بعد کی بے حُر متی اور آج ایک نا معلُوم مقام پر ہُوئ بے یارو مدد گار تدفین یہ سب کیا ہے ؟؟؟یہ سب کیا ہے کہ کل تک کے با رُعب حُکمران اور آج کی بے بسی کی موت ،،،اِن سب چیزوں نے مِل کر اِن سب مادّی چیزوں سے دِل اُچاٹ کیا تو کیا ہی خوف اور زادِراہ کی کمی نے اور بے حال کر دیا ،،اللہ تعالیٰ ہمیں ہماری اصل جگہ کے لِئے بڑا گھر تعمیر کرنے کی توفیق دے،،،آمین
ہمارے گُنا ہوں کی تعداد گو بہُت زیادہ ہے لیکِن میرے پیارے ربّ ہماری کوتاہیوں کو گُناہوں کو مُعافی عطا ہو،،،میرے لوگ بے گُناہی کی موت مارے جا رہے ہیں میرا مُلک راکھ کا ڈھیر ہو رہا ہے کراچی میں اِس ِماہِ مُبارکہ کا تقدس کیسے پامال ہو رہا ہے دیکھنے کی ہِمِّت نہیں ہے لیکِن دیکھتی جا رہی ہُوں معصُوموں کے خُون سے ہاتھ رنگنے والے کون سے ایسے ہاتھ ہیں جو کِسی کو نظر ہی نہیں آپا رہے دِل بہُت کُچھ چاہ رہا ہے لِکھنے کو لیکِن میرے دِل میں اِتنی گُھٹن بھری ہے کہ سامنے سب دُھواں ہی دُھواں ہے اور یہ دُھواں میری آنکھوں میں مِر چیں بھر گیا ہے ،،،
پلیز جو بھی ذِمّے داران ہیں کوشِش کریں کہ حِساب کِتاب یہیں ہو جائے گر کہیں دیر ہو گئ تو یہ سوچ لیں اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں اور ذرا دیر کو ہمارے اربابِ اِقتدار اپنے دِل پر ہاتھ رکھ کر دیکھیں کہ کہیں اگر یہ سب اپنے جِگر گوشوں کے ساتھ ہو تو کیسے تکلیف کا باعث بات ہوتی ہےاور کیا آپ اِس طرح کی پکڑ میں نہیں آسکتے سوچیں اور ذرا جلدی سوچیں کہیں اِتنی دیر نا ہوجائے کہ پِھر کُچھ ہو ہی نا پائے،،،

