آپ سب کو ربیعُ الاوّل کے مُبارک مہینے کی بہُت بہُت مُبارک ہو اللہ تعالیٰ ہم سب کو اِس ماہِ مُبارکہ کی برکتوں سے فیضیاب ہونے کی توفیق مِلے ڈھیروں ڈھیر دُعائیں کریں اور عِبادتیں کریں اور اپنی دُعاؤں میں ہمیں بھی یاد رکھیں،،،
خُرم نے مُجھے ٹیگ کیا ورنہ تو لگ رہا تھا سب بُھول بھال گئے حالانکہ قصُور وار تو میں خُود ہُوں بہر حال اب تو ٹیگا گیا ہے تو جواب بھی حاضِر ہیں،،،
2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
کوئ خاص تو نہیں کرنا چاہتی لیکِن کُچھ ایسی باتیں اور ضرُوری کام ہیں جو خواہِش ہے کہ اِس سال یہ فرض ادا ہی ہو جائیں تو اچھا ہے باقی جو اللہ کو منظُور اور ہاں جب یہ کام ہو گئے تو آپ سب کو بھی ضرُور بتایا جائے گا،،،
2012ء میں کس واقعے کا انتظار ہے؟
اُوپر والے واقعے کا ہی انتظار ہے فی الحال تو،،،
2011ء کی کوئی ایک کام یابی؟
کوئ ایسی خاص کامیابی والی بات تو دھیان میں نہیں ہے اللہ کا اِحسان ہے جو بِن مانگے ہی دیتا ہے ہم اِس قابِل تو نہیں تھے جِتنا اُس نے نوازا ہے جِتنا دیا ہے شُکر اللہ کا کامیابی ناکامی سب کے لِئے شُکر گُزار ہیں وقت اور عُمر کے ساتھ ساتھ کامیابیوں یا نا کامیوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا ہو چُکا ہے،،،
2011ء کی کوئی ایک ناکامی؟
میں نا کامیوں کو برداشت کرنے اور بُھول جانے کی عادی ہُوں،،،
2011ء کی کوئی ایک ایسی بات جو بہت یادگار یا دل چسپ ہو؟
2011ء میں بہُت مُدت کے بعد پاکِستان جانا ہُوا میرے پارے جانُو بھیا کی شادی تھی بہُتتتتتتتتتت مزہ آیا اِتنے پیارے لوگوں سے مُلا قات ہُوئ ،،،عمار،،شگُفتہ اور حِجاب سے بات بھی ہُوئ بہُت اچھا لگا میرے لِئے یہ بات یادگار بھی اور دِلچسپ بِھی تھی،َ،،،
سال کے آغاز پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟
ہمیشہ کی طرح سال کے آغاز پر اچھا ہی لگ رہا ہے اور اچھا ہی لگتا ہے اچھی اچھی دُعائیں اور سوچیں ہوتی ہیں دِماغ میں کہ اللہ تعالیٰ سب کے لِئے یہ سال اچھا ہی رہے،،،
کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟
سیکھنے کا عمل تو ساری زِندگی جاری ہی رہتا ہے میں بھی اِسی عمل کا حِصّہ بنے رہنا چاہتی ہُوں بس دُعا کی ضرُورت ہے کہ اللہ تعالیٰ مُجھے میرے ہر عمل میں اِستقامت بخشے،،،آمین
عمار بچے اِتنے عرصے کے بعد آپ نے ٹیگ کا سِلسِلہ دوبارہ سے شُرُوع کر کے بہُت اچھا کیا ہے،،،
اور اب میں شعیب صفدر
میرا پاکِستان اور
تانیہ رحمان کو ٹیگ کرتی ہُوں،،،،
بہُت اچھا لگ رہا ہے کہ آج پِھر ایک نئ تاریخ کا حِصّہ بن گئے ہیں اِس سے پہلے کافی عرصہ ہُوا ایک پروگرام آیا کرتا تھا
beyond 2000
تو بہُت عجیب سا لگتا تھا کہ کیا ہم بھی ہوں گے
beyond 2000
میں اور وُہ وقت آیا بہُت شان سے کہ نا صِرف یہ کہ ایک نیا سال،،نئ صدی بلکہ ایک نیا ہزاریہ بھی ہم نے دیکھا جبکہ ہماری اگلی آنے والی بہُت ساری نسلیں بھی یہ موقع نہیں دیکھ پائیں گی عجیب سی بات تھی نا تو حیرانگی تو ہونا ہی تھی،،، اور وقت اِتنی تیزی سے گُزرتا ہے کہ ایک نیا عشرہ بھی گُزر گیا 2000 کا جبکہ آج ہم ایک نئ تاریخی تاریخ کا دِن بھی دیکھ رہے ہیں یعنی
گیارہ،،گیارہ ،،گیارہ
اچھی بات یہ ہے کہ اب یہ دِن ،،یہ تاریخ پُورے ایک سو سال کے بعد آئے گی یقین نہیں آتا ،،لوگوں نے تو اِس ایک خاص دِن کو اور زیادہ خاص بنانے کے لِئے بہُت کُچھ ایسا کیا ہے جو عام سے ذرا ہٹ کر تھا گو ہر دِن ہی دُنیا میں نئ نئ باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکِن مُجھے تو ایک خبر نے زیادہ مُتاثر کیا جہاں
گیارہ،،گیارہ ،،گیارہ
کے دِن کو خاص کرنے کے لِئے ماں باپ کی خُوشیوں کو بھی ایک اور ایک گیارہ کر دیا یعنی ڈبل کر دیا جُڑواں بچوں نے پیدا ہو کر ،،واہ بھئ واہ کیا مزے کی بات ہے؟؟؟
اللہ تعالیٰ خُوش رکھے اور زِندگی کا ہر دِن ہی ایک نیا اور خُوبصُورت رنگ لے کر آئے سب کے لِئے ،،،آپ سب کو بھی اِس نئ تاریخ یعنی
گیارہ،،گیارہ ،،گیارہ
کا حِصّہ بننا مُبارک ہو،،،
ماشاءاللہ ذِی الحج کا مہینہ ہم مُسلمانوں کی روایتوں کا امین بن کر آچُکا ہے لیکِن ہم میں سے کِتنے لوگ ہیں جو اِس مہینے کی برکت اور اہمیّت کو سمجھتے ہیں سبھی لوگ کہیں گے کہ کیا ہم نہیں جانتے قُربانی اور ذِی الحج کی اہمیّت،،،،
اصل بات یہ ہے کہ ہم ،،، میں لگی لِپٹی رکھے بغیر کہُوں گی کہ اپنے کو اِتنے عقلِ کُل سمجھتے ہیں کہ سامنے والا ہر بندہ ہمیں پاگل دِکھتا ہے اور مزہب کے مُعاملے میں تو ویسے بھی شاید ہم مرفُوعُ القلم ہستیاں ہیں،،گو اللہ کا اِحسان ہے کہ ہمارے مُلک میں اِسلام نافز ہے پھر بھی ہم اپنی مرضی سے ہرکام کر سکنے کی صلا حیّت رکھتے ہیں ایک دو دِن پہلے ایک چینل پر ایک خاتُون سے کِسی نے پُوچھا کہ آپ بکرا خریدنے آئیں ہیں آپ کِتنے تک کا بکرا خرید نا چاہتی ہیں تو اُنہوں نے کہا ایک لاکھ تک کا بکرا تو ہونا ہی چاہیئے ،،،اور میں یہ سوچ کر حیران رہ گئ کہ آج بھی ہمارے مُلک میں ایک لاکھ کی بہُت قیمت ہے اور ایسے بھی لوگ ہیں جو لاکھوں کی قُربانی کر سکتے ہیں بہُت اچھی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کُچھ لوگوں کو اِتنی توفیق دی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے قُرآن پاک میں کہ ہمیں خُون اور گوشت کی ضرُورت نہیں بات صِرف نیت کی ہوتی ہے جو ہم سُنّتِ اِبراہیمی کی پیروی میں کرتے ہیں ،،،تو کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ آج ہمارے اِرد گِرد کِتنے لوگ ایسے ہیں جو ایک وقت کے کھانے کے لِئے بھی ترس رہے ہیں ایسے میں کیا ہم اپنی وقتی دِکھاوٹ سے اپنے لِئے کوئ اِجتماعی دُکھ خرید رہے ہیں ،،،ہم ہر سال قُربانی کی رقم پاکِستان بِھجوا دیتے ہیں کہ کوئ بہن بھائ ہماری طرف سے قُربانی کردے اِس مرتبہ میں نے سوچا کہ یہیں قُربانی کی جائے ایک دو مرتبہ پہلے بھی یہاں قُربانی کی تھی تو گوشت تقسیم کرنے میں کافی مُشکِلات پیش آئیں تھیں کوئ گوشت لینے والا نہیں مِلتا اِس مرتبہ جب یہاں پھر دِل چاہا قُربانی کو تو اکرم نے کہا کہ ریڈ کریسینٹ میں ڈونیشن والے بکس میں ڈال دیتے ہیں دُنیا میں اِتنی پریشانی دُکھ اور بُھوک ہے ،،،اگر ہم اپنا قُربانی کا فرض ایسے ادا کریں ،،،آپ لوگ کیا کہتے ہیں؟؟؟؟؟
اور اگر خرید کر اپنا ہی فریزر بھرنا ہے تو کیا فائدہ ،،،میں ایسے بہُت سے اپنے قریبی لوگوں کو جانتی ہُوں جو سفید پوشی کے اِس دور میں تن ڈھانکتے ہیں تو پاؤں ںنگے اور پاؤں ڈھکیں تو سر ننگا ،،،کیا یہ بات درُست ہو سکتی ہے کہ ہم ایسے کِسی اپنے قریبی کی دامے درمے سُخنے مدد کر دیں ؟؟؟
آپ سب کو حج اور عیدِ قُرباں کی مُبارک ساعتوں کی بہُت بہُت مُبارک ہو اللہ تعالیٰ جو حج کرنے گئے ہیں اُن کے حج مقبُول کرے اُن کی قُربانیوں کو قبُولیت عطا ہو اور جو بھی میرے مُلک کے لوگ قُربانی کر رہے ہیں اپنے اُن بہن بھائیوں کو پہلے یاد رکھیں جو قُربانی کی طاقت نہیں رکھتے کہ اُن کا حق بھرے پیٹ والے لوگوں سے بہُت زیادہ ہے اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی باریکیوں کو سمجھنے کی توفیق عطا کرے ،،،آمین
میرا مقصد کِسی کی دِلآزاری کا ہر گِز نہیں لیکِن اگر ہم اپنے بھرے دسترخوانوں کو تھوڑا وسیع کر لیں تو قُربانی کا اصل مفہُوم سمجھنے میں یقینی آسانی ہوگی کہ ہمارا دین تو قدم قدم پر ہمیں قُربانی کی اہمیّت سمجھاتا ہے اور اِس کا درس بھی دیتا ہے ،،
نہایت سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اِس کی حُسین ،اِبتدا ہے اِسمعیل
ایک بار پھر آپ سب کو عیدُالا ضحیٰ کی بہُت بہُت مُبارک ہو،،،
بہُت دِنوں کے بعد حاضری ہو رہی ہے بہُت سے مسئلے مسائِل اور ِبہُت ساری ایسی باتیں تھیں جو آپ سب سے شیئرکرنے کو دِل چاہ رہا تھا لیکِن کبھی کام کی زیادتی آڑے آجاتی تھی اور کبھی ماشاءاللہ سے مہمانوں کی بابرکت آمد کی وجہ سے وقت نہیں مِل رہا تھا ،،،بازو کے درد نے بھی پِھر سے تھوڑا پریشان کر رکھا تھا لیکِن خیر یہ تو سب کے ساتھ ہے سب کی زِندگیوں میں مسئلے مسائِل چلتے ہی رہتے ہیں،،،کِتنی ہی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو دِماغ کو گُھمانے کا باعث بن جاتی ہیں لیکِن اگر ہم ذرا سا بھی غور کریں تو بات اِتنی بڑی ہوتی نہیں جِتنی ہماری حد سے بڑھی ہُوئ حِساسِیّت اُسے بنا دیتی ہے ،،،پِچھلے کُچھ دِنوں میں مُلکی اور عالمی حالات میں ہُوئ خبروں نے جہاں دِل کی حالت تہہ و بالا کر رکھی تھی وہیں اپنے گھر کے کُچھ مُعاملات نے بھی دِل پریشان کر رکھا تھا صِرف ایک مُعاملہ آپ سب سے شیئر کرُوں گی ہم لوگ گھر تبدیل کرنا چاہ رہے تھے کافی عرصے سے لیکِن ہر بار ہی کوئ نا کوئ ایسی بات ہو جاتی کہ مُعاملہ عین وقت پر کوئ اور رُخ اِختیار کر لیتا اور کام درمیان میں سے ہی ختم کرنا پڑتا میرے صاحب بہادُر جو ہمیشہ سے ہی اپنے سے زیادہ دُوسروں کی خُوشی اور خیال ہر بات میں ملحُوظ رکھتے ہیں مُجھے یہ کہہ کر چُپ کروا دیتے کہ چلو کوئ بات نہیں گو میں خُود بھی ہمیشہ اپنا فائِدِہ پسِ پُشت ڈال کر ہر کِسی کا بھلا ہی سوچا کرتی ہُوں،،،اب بھی اکرم نے مُجھے گھر کی تبدیلی کا کہا تو میں جو کافی وقت سے اب اِس بات کو بُھول چُکی تھی بلکہ مارے غُصّے کے اب ایسی کوئ بات کرتی ہی نہیں تھی پِھر سے سب بُھول بھال کر نئے گھر کی تلاش میں جُت گئ اور اِدھر اُدھر سب دوستوں کو بھی کہہ دیا اور قِسمت کی بات اگلے ہی دِن اپنی دوست کی ہی بِلڈِنگ میں گھر خالی ہونے کی خبر بھی مِل گئ نا صِرف یہ کہ بِلڈِنگ میری پسندیدہ تھی دوست سے قریب بھی ہو جاتی اور گھر بھی بہُت اچھا سب سے بڑی کشِش کی بات میرے لِئے اُس کا بہُت بڑا کِچن تھا جلدی جلدی بِلڈِنگ کے واچ مین سے کہا کہ بس گھر ہمیں دِکھا بھی دو بلکہ اکرم کے ڈیوٹی سے آنے کے بعد جو میں اُنہیں فوری آرام کا کہا کرتی تھی بس جلدی سے چائے کا ایک کپ تھما کر واچ مین کے پاس جانے کو کہا وہاں بھی سارے مُعاملات بخیر وخوبی انجام پا گئے آفس کی کاروائ کے لِئے بھی اگلے دِن آفس والوں کے کہنے کے مُطابِق درخواست بمع سب ضرُوری اشیاء کے میل کردی اب وقت شُرُوع ہُوا ہمارے خوابوں کا ،،،کونسا کمرہ کون لے گا؟؟کِس کمرے میں کیا رکھا جائے گا ؟؟کون کونسی غیر ضرُوری اشیاء یہیں پُرانے گھر میں چھوڑ دی جائیں گی اور کب ،کدھر سے کیا لیا جائے گا بیٹی کا جوش دیدنی تھا نیٹ سے نِکا ل نِکال کر اپنے کمرے کی سیٹنگ کی جا رہی ہے ،،،لیکِن آخِر میں کیا ہُوا کہ آفس والوں نے کُچھ بکواس قِسم کی شِقیں نِکال کر ہمارے ارمانوں کا ایسا کباڑہ کیا کہ مُعاملہ پِھر وہیں پر آگیا جہاں سے چلا تھا آفس کی طرف سے جو شِقیں نِکالی گئیں وُہ کیا بتاؤُں اور آپ کو بھی اِن سب دفتری بکواسیات سے کیا دِلچسپی ہو گی مگر میرے دِل کی جو حالت ہُوئ وُہ بہُت خراب تھی اِنتہا کا غُصّہ اور بے بسی،،،لیکِن اس سب کے عِلاوہ اور میں کر بھی کیا سکتی تھی،،چُپ چاپ پِھر سے گھر کے کاموں میں لگ گئ لیکِن میرے ربّ نے مُجھے ابھی کُچھ اور بھی دِکھانا تھا مُجھے اِطمنیان دِلانے کے لِئے ،،،میری آنکھیں کھولنے کے لِئے اور ناصِرف اپنے لِئے بلکہ اپنے گھر والوں اور سب کی تسلی کے لِئے بھی،،،پرسوں شام کو پیپلز پارٹی کی خاتُونِ اوّل نُصرت بُھٹو کی وفات ہُوئ اور کل اُن کی آخری رسُومات ہُوئیں میں نے زندگی میں پہلی دفعہ کِسی کی آخری رسُومات اِتنی تفصیلی اور آخر تک دیکھی تھیں ڈراموں وغیرہ میں بھی بس قبر پر مٹی ڈالتے ہُوئے یا دُعا مانگتے ہُوئے ہی دیکھا اپنے پیاروں کے لِئے بھی بس جا کر دُعا مانگتے ہیں کبھی اِتنی گہرائ سے نہیں دیکھا تھا اور اب جب دیکھا تو جہاں اور بہُت سی حقیقتوں کا پتہ چلا وہیں یہ تکلیف دِہ بات بھی اِیک دم سامنے آئ کہ ہم کیا کرتے ہیں ہمارے کہنے اور کرنے میں اِتنا تضاد ہوتا ہے جبکہ زِندگی کی اصل حقیقت یہ ہے جو دیکھی تو جہاں اپنے اِرد گِرد پھیلی اپنی غیر ضرُوری خواہِشوں کے سِلسِلے غلط لگے وہیں یہ عُقدہ بھی کُھلا کہ ہمارا اصل ٹِھکانہ،، اصل جگہ بس یہی ہے اِتنی مُختصِر سی جگہ جہاں کوئ بھی سہُولت نہیں ہوگی اور ہم اپنی زِندگیوں میں کِتنی سہل پسندیوں کے عادی ہوتے جا رہے ہیں یہاں کے بڑے گھروں کے متلاشی ،،آگے کی ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے ہم نے کیا زادِ راہ اِکٹھا کِیا ہوتا ہے کبھی سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے یہ سب سوچ کر جہاں دِل بند ہوتا محسُوس ہُوا وہیں یہ سوچ کہیں اور جا کر اٹک گئ اپنے اِتنے بڑے لیڈران کے اپنے آئیڈئلز کا اِتنا عجیب انجام دیکھ کر جہاں پہلے ہی دِل بہُت بُرا ہو رہا تھا اِتنے عجیب حالات میں قزافی کی ہلاکت اور پِھر ہلاکت کے بعد کی بے حُر متی اور آج ایک نا معلُوم مقام پر ہُوئ بے یارو مدد گار تدفین یہ سب کیا ہے ؟؟؟یہ سب کیا ہے کہ کل تک کے با رُعب حُکمران اور آج کی بے بسی کی موت ،،،اِن سب چیزوں نے مِل کر اِن سب مادّی چیزوں سے دِل اُچاٹ کیا تو کیا ہی خوف اور زادِراہ کی کمی نے اور بے حال کر دیا ،،اللہ تعالیٰ ہمیں ہماری اصل جگہ کے لِئے بڑا گھر تعمیر کرنے کی توفیق دے،،،آمین
ہمارے گُنا ہوں کی تعداد گو بہُت زیادہ ہے لیکِن میرے پیارے ربّ ہماری کوتاہیوں کو گُناہوں کو مُعافی عطا ہو،،،میرے لوگ بے گُناہی کی موت مارے جا رہے ہیں میرا مُلک راکھ کا ڈھیر ہو رہا ہے کراچی میں اِس ِماہِ مُبارکہ کا تقدس کیسے پامال ہو رہا ہے دیکھنے کی ہِمِّت نہیں ہے لیکِن دیکھتی جا رہی ہُوں معصُوموں کے خُون سے ہاتھ رنگنے والے کون سے ایسے ہاتھ ہیں جو کِسی کو نظر ہی نہیں آپا رہے دِل بہُت کُچھ چاہ رہا ہے لِکھنے کو لیکِن میرے دِل میں اِتنی گُھٹن بھری ہے کہ سامنے سب دُھواں ہی دُھواں ہے اور یہ دُھواں میری آنکھوں میں مِر چیں بھر گیا ہے ،،،
پلیز جو بھی ذِمّے داران ہیں کوشِش کریں کہ حِساب کِتاب یہیں ہو جائے گر کہیں دیر ہو گئ تو یہ سوچ لیں اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں اور ذرا دیر کو ہمارے اربابِ اِقتدار اپنے دِل پر ہاتھ رکھ کر دیکھیں کہ کہیں اگر یہ سب اپنے جِگر گوشوں کے ساتھ ہو تو کیسے تکلیف کا باعث بات ہوتی ہےاور کیا آپ اِس طرح کی پکڑ میں نہیں آسکتے سوچیں اور ذرا جلدی سوچیں کہیں اِتنی دیر نا ہوجائے کہ پِھر کُچھ ہو ہی نا پائے،،،
پُوری قوم کو چونسٹھواں یومِ آزادی مُبارک ہو،،،
اِن حالات میں جو آج میرے مُلک کو درہیش ہیں ہر دِن ِایک نیا دھڑکا ،،ایک نیا دُکھ نا چاپتے ہُوئے بھی مُنتظر رہتا ہے گھر سے بے وقت کوئ فون آجائے تو ڈر لگتا ہے کہ اللہ کرے کوئ خیر کی خبر ہی مِلے ،،،صُپح اُٹھ کر ٹی وی لگاتے ہُوئے تھوڑی دیر کو ہِچکچاہٹ کا شِکار ہو جاتی ہُوں کہ پتہ نہیں کیا دیکھنے کو مِلے گا،،،سارے جہان کے دھڑکے اور بد گُمانیوں کے باوجُود یہ سبز سفید پرچم اپنی جان ہے ،،آج مُختلِف چینلز پر مِلّی نغمے دیکھتے ہُوئے بے اِختیا رآنکھیں بھر آئیں بیٹی جو کُچھ پُوچھ رہی تھی میں گلا رُندھ جانے کی وجہ سے کُچھ بول ہی نہیں پائ تو وُہ بہُت حیران ہو کر میری شکل دیکھنے لگی کہ مما کیا ہُوا ہے وُہ بد تمیز بھی بار بار بولے جائے کہ بتائیں ںا کیا ہُوا ہے؟؟؟
کیا کہتی کہ کیسی کیسی خُوبصورت یادیں وابستہ ہیں ہر نغمے سے اور کیا چین و سکُون کے دِن تھے کہیں بھی کبھی بھی نِکل کر جانے میں نا ہی کوئ خطرہ ہوتا تھا اور نا ہی کبھی محسُوس کیا تھا بہُت خُوش دِلی اور اِہتمام سِے یہ دِنِ منایا کرتے تھے پِھر بھی میرے ہم وطن اپنے اِس پیارے دِن کی تیاری آج بھی کر رہے ہیں ایک ایسے وقت میں جبکہ ہر وقت ایک انجانے خوف کی فِضا ہر طرف ہے اللہ تعالیٰ سے بہُت دُعاؤں کی ضرُورت ہے کہ اے اللہ ہمیں اپنے مُلک کی خُوبصُورتیاں دیکھنا نصیب کرےامن و امان کی فِضا قائِم ہو جائے ،،آپس کی رنجِشوں کا خاتمہ بِالخیر ہو جائے ہم بھی دُنیا کے سامنے سُر خُرُو ہو کر اپنے مُلک کو پیش کر سکیں پیارا پاکِستان جِسے ہم نے بہُت سی قُربانیوں کے بعد حاصِل کیا اے خُدایا اِس کو تا قیامت دوام بخشنا
یادوں کے سِرے طویل تو ہیں لیکِن صِرف یادوں سے کام نہیں چلتا کام جبھی بنتا ہے جب ہم اپنی ساری ہِمّتوں کو ایک جگہ مُجتمع کر کے پُوری جان لگا دیں تو یہ کیسے مُمکِن ہو سکتا ہے کہ بازی آپ کے ہاتھ نا رہے اللہ تعالیٰ ہمارے مُلک کو اپنی امان میں رکھّے اور ہمیں صحیح سِمت کا تعین کرنے کی توفیق عطا ہو یہ مُلک جو ہمارے بزُرگوں نے اپنی جانوں کے نزرانے دے کر ہمارے لِئے حاصل کیا تھا اِس کی قدر کرنا سِکھائے،،،آمین

گو مُجھے آپ سب کو رمضان کے مُبارک مہینے کی آمد پر مُبارک دینے میں دیر ہو چُکی ہے لیکِن میرے خیال میں نمبر ایک تو یہ کہ دیر کُچھ بہُت زیادہ نہیں ہُوئ آج تیسرا روزہ رکھ کر ہی تو فارِغ ہُوئے ہیں اور دُوسری وجہ کمپیوٹر میں تھوڑی پرابلم ہو رہی تھی لِکھ کر بھیجنے کی دو دفعہ کوشِش کی اور دونوں مرتبہ ہی سب خالی،،،،
بہر حال دیر آید بھی درُست آید ،،،
رمضانُ المُبارک کا بابر کت مہینہ ایک بار پِھر سے ہمیں اپنی رحمتوں سے فیضیاب کرنے کو آچُکا ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی رحمتوں اور برکتوں سے فیضیاب کرنے کا ایک موقع اور دیا ہے آپ سب کو برکتوں اور رحمتوں کا یہ مہینہ بہُت بہُت مُبارک ہو آگے بڑھیں اور رحمتوں سےجھولیاں بھر لیں اپنے لِئے بھی اور اپنے پیاروں کے لِئے بھی دُعائیں کریں رمضان جو اپنے تین عشروں میں ہمارے لِئے رحمت،،مغفرت اور جہنّم سے نجات کی وعید لے کر آتا ہے ،،اللہ تعالیٰ ہمیں اِن رحمتوں کے قابِل سمجھتا ہے جبھی تو ہماری اِتنی خطاؤں اور غلط کاریوں کے باوجُود ہم پر اپنی عنایتوں کی برسات رکھتا ہے ہم اِس قابِل تو نہیں کہ اِتِنی عنایتوں کے حقدار ہوں لیکِن اُس کے رحم کی اِنتہا تو دیکھیں ہمیں ہمارے گُناہوں کی بخشِش کے لِئے مواقع بھی عطا کر دِئے اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اِن مواقِع سے فائِدہ اُٹھائیں ،،،
دُعائیں کریں،،عِبادت کریں اور اپنے اُن پیاروں کے لِئے بھی رحمت اور مغفرت مانگیں جو ہم سے ہمیشہ کے لِئے دُور جا چُکے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بُلند کرے اور اُن کی غلطیوں سے در گُزر کرے،،،آمین
عِشاء کی نماز کے بعد سات مرتبہ سُورہ القدر اوّل آخر درُود شریف کے ساتھ پڑھیں اِنشاء اللہ اِس کے پڑھنے سے ہر مُصیبت دُور ہو جائے گی بہُت افضل ہے یہ دُعا پڑھنا،،،اللہ تعالیٰ ہماری دُعاؤں اور عِبادتوں کو قبُولیت عطا کرے اور ہماری دُعاؤں میں وُہ خشُوع و خضُوع ہو جو دُعاؤں کی مقبُولیت کا سبب بن جائے،،آئیے اپنے سب پیاروں کے لِئے ،،،اُن مریضوں اور پریشان حالوں کے لِئے دُعا کریں ،،،اُن کی مُشکِلات کے دُور ہو جانے کے لِئے دُعا گو ہوں جو اپنی تکلیف کِسی سے کہہ نہیں پاتے ،،،اپنے پیارے وطن کی سلامتی اور امن و امان کے لِئے اِپنے ربّ کے حضُور عاجزی اور دِل کی اتھاہ گہرائیوں سے دُعا کریں اللہ تعالیٰ قبُول کرے ،،،آمین
اور اپنی دُعاؤں میں ہمیں بھی یاد رکھیں،،،
پہلے بھی تو گُزرے ہیں دور نا رسائ کے
بے ریا خُدائ کے
پِھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزُو مندی
یہ شبِ زباں بندی،ہے رہِ خُدا وندی
تُم مگر یہ کیا جانُو،لب اگر نہیں ہِلتے
ہاتھ جاگ اُٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ اُٹھتے ہیں
راہ کا نِشاں بن کر
نُور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اُٹھتے ہیں
صُبح کی اذاں بن کر
روشنی سے ڈرتے ہو
روشنی تو تُم بھی ہو
روشنی تو ہم بھی ہیں
روشنی سے ڈرتے ہو
شہر کی فصیلوں پر
دیو کا جو سایہ تھا
پاک ہو گیا آخِر
رات کا لِبادہ بھی چاک ہو گیا آخِر
خاک ہو گیا آخِر
اژدھامِ اِنِساں سے
فرد کی نوا آئ
ذات کی صدا آئ
راہِ شوق میں جیسے
راہروی کا خُوں لپکے
اِک نیا جنُوں لپکے
آدمی چھلک اُٹھے
آدمی ہنسے دیکھو
شہر پِھر بسے دیکھو
تُم ابھی سے ڈرتے ہو
ہاں ابھی تو تُم بھی ہو
ہاں ابھی تو ہم بھی ہیں
تُم ابھی سے ڈرتے ہو
کیساہے یہ ڈر؟؟؟

